Posts

Showing posts with the label اسلامی عدل

جہنم سے جہنم تک ، لونڈی جس کا نام راخل تھا

Image
تحریر: غالب کمال حشر سجا، لائے جا رہے تھے شاہ وِ شہنشاہ، نبی و رسول، سپہ سالار و سورما بیٹھا تھا ربِ زوالجلال مسندِ عدل پر، ہر ایک کے اعمال کے مطابق بدلہ دیتا ہوا۔ کافروں کو جہنم، مجاہدوں کو جنت کی نوید ہو رہی تھی، سرافین ہر فیصلے پر نرسنگے پھونکتے واہ واہ ہوتی، کفار و مشرک چیخ چیخ کر معافیاں مانگتے، مگر انصاف کا تقاضا تھا، قہار اور جبار پروردگار روز محشر کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اس گومگو کیفیت میں اسی درد و دہشت، انصاف و عدل کے میدان میں اک فاحشہ لائی گئی۔ اس کا نام رابعہ تھا۔ ربِ زوالجلال نے سوال کیا ؟ "تو کتنے مردوں کو بہکاتی رہی؟ کتنے مردوں کو بے راہ روی کی جانب مائل کیا، کتنوں کو تم نے جہنم میں پہنچا دیا؟ " وہ کانپ رہی تھی، پسینے سے شرابور، رب چلایا "بول بدکار عورت کیا تیرے گناہ تجھے یاد نہیں؟" وہ پھر بھی خاموش تھی۔ "تو نے اپنا جسم بیچ بیچ کر کتنی دولت کمائی، اپنی حرام کی اولاد کو اپنے ناپاک جسم کی کمائی کھلائی، اپنے بیٹیوں کو فاحشہ بنایا، ان کے جسموں کی کمائی کھائی" وہ پھر بھی خاموش تھی۔ بائیں ہاتھ کے اشارے سے رب نے اسے جہنم واصل کرنے کا حک...

اے مظلوم بیٹیو تمہیں اسلام مبارک ہو

Image
تحریر: غالب کمال  کتنی بار بکی ہے حوا کی بیٹی؟ آدم کی پسلی سے نکلی حوا، خدا نے آدم کو مٹی سے بنایا اور عورت کو پسلی سے، انسانی نسل کی افزائش عورت کرتی ہے۔ پستی ہے کٹتی ہے۔ مرتی ہے، حوس کا نشانہ بننے سے لے کر گھر کی باندی بننے تک سبھی کچھ عورت سہتی رہتی ہے۔ مگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی عورت مرد کے برابر نہیں بن سکتی، کیونکہ وہ کمزور ہے۔ کیونکہ وہ جسمانی طور پر ناتواں ہے، مگر اس کے ارادے مضبوط ہیں۔ عورتیں بادشاہ بنا دیتی ہیں، سکندر کی کامیابی میں اس کی ماں کا ہاتھ تھا۔ عورتیں نبی بنا دیتی ہیں، عیسیٰ کے معجزات اور محمد کی نبوت کی پہلی معترف عورتیں ہی تھی۔ مئے بنی تو مریم کی وجہ سے وحی کی تصدیق ہوئی تو خدیجہ کی وجہ سے۔ قبل از اسلام عورت کی مشکلات کا ذکر بارہا دیکھنے کو ملتا ہے، کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی جاتی تھیں، مگر ابوسفیان یا ابوجہل نے بھی اپنی بیٹیاں زندہ دفن نہیں کیں، بلکہ خدیجہ مکہ کی بااثر اور طاقتور خواتین میں سے تھیں، ان جیسی طاقت بعد از اسلام کسی عورت کو نہیں ملی۔ رسول اللہ نے بھی حضرت خدیجہ کی زندگی تک کسی اور عورت کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی...

اسلامی نظام عدل : سامان صد ہزار نکمداں کیۓ ہوۓ

Image
تحریر : گلریز شمسی آج سے چند سال قبل فن تعمیر کے عظیم شاہکار تاج محل کی کشش بیلجیم کے ایک ستاون سالہ شہری کو ہندوستان کے شہر آگرہ کھینچ لائی- یہ شخص بلکل تنہا تھا اور پہلی بار ہندوستان آیا تھا - چونکہ یہ شخص ہندوستانی زبان سے بھی واقفیت نہیں رکھتا تھا لہذا اس نے اپنی آسانی اور سہولت کی خاطر ایک اٹھائیس سالہ ہندوستانی ٹیکسی ڈرائیور کو بحثیت گائیڈ ملازم رکھنے کا فیصلہ کر لیا – ہندوستانی ٹیکسی ڈرائیور نے موقع پاتے ہی اپنے غیر ملکی آجر کو قتل کر دیا اور اسکا مال و اسباب لوٹ کر فرار ہوگیا – بیلجیم کے اس شہری کی لاش ریسٹ ہاؤس کے اسی کمرے میں پائی گئی جس میں وہ عارضی طور قیام پزیر تھا – بیلجیم کے سفارت خانے کی جانب سے اس المناک سانحے پر بھارتی حکومت سے شدید احتجاج کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ قاتل کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا گیا - بھارتی پولیس کی سرتوڑ کوششوں کے نتیجے میں چند ہی دنوں میں ناصرف قاتل کو گرفتار کرلیا گیا بلکہ اسکے قبضے سے مسروقہ مال بھی برآمد کر لیا گیا - قاتل نے اقرار جرم کیا مقدمہ چلا اور اسے قانون کے مطابق سزا سنا دی گئی – اسلامی عدل : جسکا کا ...