Posts

Showing posts with the label مدینہ

مدینہ کی ریاست ــ حصہ دوم

Image
    تحریر : ارشد محمود   خلافت حضرت عمر  حضرت ابو بکر نے مرض وفات میں حضرت عمر کو اپنا جانشین نامزد کیا، اسی نامزدگی کی بنیاد پر حضرت ابو بکر کے بعد خلافت حضرت عمر نے سنبھالی۔ ابوبکر نے عجمی ممالک کے خلاف جہاد جاری رکھنے کی جو وصیت کی تھی،اسے حضرت عمر نے جاری رکھا۔ ہرمز کے جنگ میں ہارنے سے دجلہ کے حصے کو چھوڑ کر پورےملک عراق پر قبضہ ہو چکا تھا۔ ایران کے شاہی خاندان اہل کسریٰ طوائف الملوکی کا شکار اور باہم برسرپیکار تھے۔  مال غنیمت اور کشور کشائ ابو عبیدہ کی قیادت میں ایران کی فتح کی جانب پہلا شدید   معرکہ ہوا۔ ابو عبیدہ نے دشمن کے اطراف کا تمام علاقہ برباد کر دیا۔ اور مال غنیمت جمع کر لیا۔ بکثرت لونڈیاں اور غلام بنائے گئے۔ خوراک کے بے شمار ذخیرے ہاتھ آئے،آس پاس کے عربوں کو بلا کر بھی کہا کہ و ہ جتنا لے جانا چاہتے ہیں لے جائیں۔ نرسی جو کسری کا خالہ زاد بھائی تھا، اس کے تمام خزانے قبضہ کر لئے۔ ابو عبیدہ نے جب خمس کا حصہ حضرت عمر کو ارسال کیا، تو ساتھ لکھا، ’’اللہ تعالی نے ہم کو وہ چیزیں کھانے کے لئے عطا کی ہیں، جن کی سلاطین فارس حفاظت کرتے ت...

مدینہ کی ریاست

Image
    تحریر : ارشد محمود   ہم نے سوچا کہ مدینہ کی ریاست کی کچھ جھلکیاں اختصار سے قسطوں میں پیش کی جائیں، ایک تو ہم تاریخ پڑھتے نہیں ہیں، دوسرے تاریخ کے بارے میں جو بھی ہمیں پڑھایا گیا، وہ تقدیس میں لپیٹ کر سب اچھا کے طور پر پیش کیا گیا۔اس جائزہ میں کوشش کی گئی ہے کہ عقیدت کے حصار سے نکل کر ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کیا جا سکے۔  مدینہ کی ریاست کا آغاز  مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ میں پیغمبر اسلام نے اسلامی ریاست قائم کی۔ جو 41 ہجری تک قائم رہی۔ جس کے بعد اقتدار کا مرکزہ مدینہ سے دمشق میں منتقل ہوگیا۔ مدینے کی ریاست میں ابتدائی دور میں ہمیں قبائلی سادگی، قبائلی جمہوریت کے آثار ملتے ہیں، جنہیں ہمارے ہاں اسلامی اقدار اور خصوصیات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اور اسی میں ہمیں ایک رومان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب کہ ان کا تعلق صرف انفرادی اور جزوی سطح تک تھا۔ ہمیں مدنی معاشرے اور طرز سیاست میں یہ اقدار اور اخلاقیات نظر نہیں آتی۔ ریاست اور دولت کے پھیلاؤکے ساتھ ہی اسلامی حکمرانی ابتدائی قبائلی سادہ روی سےموروثی جاگیری شاہنشائیت میں بدل گئی۔  ...