Posts

Showing posts with the label غالب کمال

جہنم سے جہنم تک ، لونڈی جس کا نام راخل تھا

Image
تحریر: غالب کمال حشر سجا، لائے جا رہے تھے شاہ وِ شہنشاہ، نبی و رسول، سپہ سالار و سورما بیٹھا تھا ربِ زوالجلال مسندِ عدل پر، ہر ایک کے اعمال کے مطابق بدلہ دیتا ہوا۔ کافروں کو جہنم، مجاہدوں کو جنت کی نوید ہو رہی تھی، سرافین ہر فیصلے پر نرسنگے پھونکتے واہ واہ ہوتی، کفار و مشرک چیخ چیخ کر معافیاں مانگتے، مگر انصاف کا تقاضا تھا، قہار اور جبار پروردگار روز محشر کسی کی سننے والا نہیں تھا۔ اس گومگو کیفیت میں اسی درد و دہشت، انصاف و عدل کے میدان میں اک فاحشہ لائی گئی۔ اس کا نام رابعہ تھا۔ ربِ زوالجلال نے سوال کیا ؟ "تو کتنے مردوں کو بہکاتی رہی؟ کتنے مردوں کو بے راہ روی کی جانب مائل کیا، کتنوں کو تم نے جہنم میں پہنچا دیا؟ " وہ کانپ رہی تھی، پسینے سے شرابور، رب چلایا "بول بدکار عورت کیا تیرے گناہ تجھے یاد نہیں؟" وہ پھر بھی خاموش تھی۔ "تو نے اپنا جسم بیچ بیچ کر کتنی دولت کمائی، اپنی حرام کی اولاد کو اپنے ناپاک جسم کی کمائی کھلائی، اپنے بیٹیوں کو فاحشہ بنایا، ان کے جسموں کی کمائی کھائی" وہ پھر بھی خاموش تھی۔ بائیں ہاتھ کے اشارے سے رب نے اسے جہنم واصل کرنے کا حک...

یا اللہ ہمیں جنت سے بچا

Image
تحریر:غالب کمال بہادر  شاہ ظفر دہلی کا آخری بادشاہ، مغلیہ سلطنت کا آخری چشم و چراغ، وہ نحیف سا بادشاہ جس کے پاس دہلی کے علاوہ کہیں کی بادشاہت نہیں تھی۔ جب انگریزوں نے دہلی فتح کیا تو بادشاہ کے گلے میں طوق ڈال کر اس کو ایک بگہی پر بٹھا کر سارے دہلی میں پھرایا گیا۔ مغلیہ آن بان اور شان کے وہ پرخچے اڑائے گئے کہ مغلیہ شان و شوکت ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ مگر بہادر شاہ ظفر نے عیش و آرام کی زندگی گزاری تھی۔ باپ دادا کی دی ہوئی سلطنت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جس میں کئی محل اور حرم، خوبرو لونڈیوں اور کنیزوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مغل بادشاہوں کا شیوہ تھا جب حرم کا رخ کرتے تو کئی کئی دن کنیزوں کی زلفوں کے اسیر ہو کر دنیا و مافیہا سے آزاد ہو جاتے، ایسی صورت میں وزیر مشیر سلطنت کے امور چلایا کرتے۔ بادشاہ شباب و کباب کے مزے لوٹنے میں اتنے مصروف ہوتے کہ باہر سلطنت لٹ جاتی ان کو معلوم ہی نہ ہوتا۔ مغلوں کے حرم جنت کا سماں پیش کرتے تھے، مگر ادھر کی حوروں کی چمڑی گوری مگر انسانی تھی، ان کے مباشرت حوروں جتنی طویل نہیں تھی۔ ان حرموں میں دنیا کی بہترین شراب ضرور ملتی تھی مگر وہ شراب طہور کا مقابلہ نہیں کر س...

اے مظلوم بیٹیو تمہیں اسلام مبارک ہو

Image
تحریر: غالب کمال  کتنی بار بکی ہے حوا کی بیٹی؟ آدم کی پسلی سے نکلی حوا، خدا نے آدم کو مٹی سے بنایا اور عورت کو پسلی سے، انسانی نسل کی افزائش عورت کرتی ہے۔ پستی ہے کٹتی ہے۔ مرتی ہے، حوس کا نشانہ بننے سے لے کر گھر کی باندی بننے تک سبھی کچھ عورت سہتی رہتی ہے۔ مگر سب کچھ کرنے کے بعد بھی عورت مرد کے برابر نہیں بن سکتی، کیونکہ وہ کمزور ہے۔ کیونکہ وہ جسمانی طور پر ناتواں ہے، مگر اس کے ارادے مضبوط ہیں۔ عورتیں بادشاہ بنا دیتی ہیں، سکندر کی کامیابی میں اس کی ماں کا ہاتھ تھا۔ عورتیں نبی بنا دیتی ہیں، عیسیٰ کے معجزات اور محمد کی نبوت کی پہلی معترف عورتیں ہی تھی۔ مئے بنی تو مریم کی وجہ سے وحی کی تصدیق ہوئی تو خدیجہ کی وجہ سے۔ قبل از اسلام عورت کی مشکلات کا ذکر بارہا دیکھنے کو ملتا ہے، کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں زندہ دفن کر دی جاتی تھیں، مگر ابوسفیان یا ابوجہل نے بھی اپنی بیٹیاں زندہ دفن نہیں کیں، بلکہ خدیجہ مکہ کی بااثر اور طاقتور خواتین میں سے تھیں، ان جیسی طاقت بعد از اسلام کسی عورت کو نہیں ملی۔ رسول اللہ نے بھی حضرت خدیجہ کی زندگی تک کسی اور عورت کی جانب آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی...