Posts

Showing posts with the label غلام رسول

محمود غزنوی: لٹیرا یا بت شکن

Image
تحریر : غلام رسول مرحوم   محمود غزنوی الپتگین کے تُرک نژاد غلام سبکتگین کا بیٹا تھا۔ الپتگین نے اپنے غلام سبکتگین کو اس کی کارکردگی اور ذہانت کی وجہ سے پہلے خاص لوگوں کے حلقے میں شامل کیا اور بعد میں اسے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ الپتگین کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا منصور تخت پر بیٹھا تو سبکتگین نے بغاوت کر کے غزنی پر قبضہ کر لیا۔ سبکتگین نے بعد میں بخارا پر بھی قبصہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد سبکتگین نے ہندوستان کا رخ کیا۔ جے پال اور سبکتگین کے درمیان جنگ میں جے پال کو شکست ہوئی اور بہت سے علاقے سبکتگین کے زیر تسلط آ گئے، اس کے علاوہ سبکتگین کو بہت زیادہ مال غنیمت بھی ملا۔ سبکتگین نے اپنے بیٹے امیر اسماعیل کو جانشین بنایا، لیکن محمود اور امیر اسماعیل میں آپس میں نہ بن سکی، دونوں بھائیوں میں جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں امیر اسماعیل کو شکست ہوئی اور اسےجرجان کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ اب سبکتگین کی سلطنت کا وارث محمود تھا۔سلطان محمود انتہائی بدصورت آدمی تھا، منہ پر چیچک کے داغ تھے، اسے خود بھی اپنی بدصورتی کا احساس تھا، اس لئے ایک دن اپنے وزیر سے کہا ”مشہور ہے کہ بادشاہوں کی صور...

معراج نبوی ــ قرآن احادیث اور تاریخ کی روشنی میں

Image
(تحریر:غلام رسول (مرحوم سُبْحَانَ ٱلَّذِى أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَىٰ ٱلْمَسْجِدِ ٱلأَقْصَا ٱلَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَآ إِنَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلبَصِيرُ پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، وہ (مسجد اقصیٰ) کہ برکت دی ہم نے جس کے ماحول کو تاکہ دکھائیں اُسے ہم کچھ اپنی نشانیاں، بیشک اللہ ہی ہے سب کچھ جاننے والا اور دیکھنے والا۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت :1) واقعہ معراج احادیث مبارکہ کی روشنی میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے، نبیؑ کریم نے فرمایا، میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا، میرے پاس حکمت اور ایمان سے بھرپور سونے کا ایک طشت لایا گیا۔ میرے سینے کو پیٹ کےآخری حصے تک کھولا گیا، اور اُسے آبِ زمزم سے دھونے کے بعد ایمان اور حکمت سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک سواری لائی گئی جو گدھے سے بڑی اور گھوڑے سے چھوٹی تھی۔ یعنی براق، میں اس پر سوار ہو کر چلا، جب میں آسمانی دنیا پر پہنچا تو وہاں بتدریج پہلے آسمان پر حضرت آدم، دوسرے پر حض...

اج کتھوں لیائیے لبھ کے ہلاکو خان اک ہور

Image
(تحریر : (غلام رسول مرحوم   جنت کا لالچ اور خودکش بمبار کی تیاری  حسن بن صباح 1050ء میں ایران کے شہر طوس ( مشہد) میں پیدا ہوا۔ 1071ء میں مصر گیا اور وہاں فاطمی خلیفہ المستنصر نے اسکی قابلیت سے متاثر ہو کر اسے اپنے خاص داعی کی حثیت سے ایران میں اسمٰعیلی دعوت پھیلانے کیلئے بھیجا۔ 1090ء میں حسن نے کوہ البرز میں الموت نامی قلعے پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں کئی دوسرے قلعے بھی اس کے قبضے میں آ گئے ۔حسن نے 1094ء میں مصر کے اسماعیلیوں سے قطع تعلق کر نے کے بعد اپنے آپ کو ” شیخ الجبال” نامزد کیا اور قلعہ الموت کے پاس کے علاقے میں چھوٹی سی ریاست قائم کر لی ۔ حسن نے ایک جماعت منظم کی جس کے اراکین فدائی کہلاتے تھے۔ ان فدائیوں کی سرفروشی کا یہ عالم تھا کہ حسن کے حکم پر اپنے پیٹ میں چھرا تک گھونپ لیتے یا قلعہ سے کود کر جان دے دیتے۔ حسن بن صباح نے ایک انتہائی خو بصورت باغ لگوایا اور اس میں نہایت خوبصورت لڑکیاں رہتی تھیں۔ حسن کئی بار دو چار فدائیوں کو حشیش پلا کر اس باغ میں پہنچا دیتا، ہوش میں آنے پر فدائی یہ سوچتے کہ وہ حقیقی جنت میں ہیں۔ عبدالحلیم شرر کا ناول ” فردوس بریں” اسی پس ...

ابو ذر غفاری – تاریخ اسلام کا ایک بھولا بسرا ورق

Image
(تحریر: غلام رسول (مرحوم تاریخ ہمیشہ حکمران اور مقتدر طبقے لکھتے ہیں، اسی لیئے تاریخ انہی کے قصے کہانیوں، کارناموں، کامیابیوں اور ناکامیوں کے گرد گھومتی ہے، اور انہی کی مدح سرائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جب بھی کبھی کسی فرد یا گروہ نے ان جابروں کے خلاف آواز اٹھائی، جب بھی ان طبقات کے مفاد کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی تو تاریخ نے ان باغیوں کے ساتھ ایک سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا۔ ایسی آوازوں کا ذکر یا تو انتہائی متعصبانہ انداز سے کیا یا اس کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا گیا۔ تاریخ اسلام میں ایسی ہی ایک آواز ابو ذر نامی صحابی کی ہے، جنہوں نے غریبوں اور ناداروں کے حقوق کیلئے اپنے وقت کے فرعونوں کے خلاف آواز بلند کی اور اس کے نتیجے میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایک درد ناک موت مرے۔  ابو ذر ایک انتہائی معزز اور معتبر صحابی تھے، آپ کو ان صحابیوں کی صف میں شمار کیا جاتا تھا جو رسول اللہ کے سب سے زیادہ وفادار ساتھی گردانے جاتے تھے، یہ مرتبہ ابو ذر کے علاوہ حضرت سلمان فارسی، حضرت مقداد اور حضرت عمار بن یاسر کو حاصل تھا۔ آپ کا اصحابِ صفہ نامی گروہ سے تعلق تھا، یہ وہ لوگ تھے جو اپنا س...