محمود غزنوی: لٹیرا یا بت شکن
تحریر : غلام رسول مرحوم محمود غزنوی الپتگین کے تُرک نژاد غلام سبکتگین کا بیٹا تھا۔ الپتگین نے اپنے غلام سبکتگین کو اس کی کارکردگی اور ذہانت کی وجہ سے پہلے خاص لوگوں کے حلقے میں شامل کیا اور بعد میں اسے لشکر کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ الپتگین کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا منصور تخت پر بیٹھا تو سبکتگین نے بغاوت کر کے غزنی پر قبضہ کر لیا۔ سبکتگین نے بعد میں بخارا پر بھی قبصہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد سبکتگین نے ہندوستان کا رخ کیا۔ جے پال اور سبکتگین کے درمیان جنگ میں جے پال کو شکست ہوئی اور بہت سے علاقے سبکتگین کے زیر تسلط آ گئے، اس کے علاوہ سبکتگین کو بہت زیادہ مال غنیمت بھی ملا۔ سبکتگین نے اپنے بیٹے امیر اسماعیل کو جانشین بنایا، لیکن محمود اور امیر اسماعیل میں آپس میں نہ بن سکی، دونوں بھائیوں میں جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں امیر اسماعیل کو شکست ہوئی اور اسےجرجان کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ اب سبکتگین کی سلطنت کا وارث محمود تھا۔سلطان محمود انتہائی بدصورت آدمی تھا، منہ پر چیچک کے داغ تھے، اسے خود بھی اپنی بدصورتی کا احساس تھا، اس لئے ایک دن اپنے وزیر سے کہا ”مشہور ہے کہ بادشاہوں کی صور...